بیٹ رپورٹنگ میں اثر و رسوخ کرائم، پولیس، یا ریونیو بیٹ کو کور کرنے والے کچھ رپورٹرز اپنے اثر و رسوخ اور رابطوں کا استعمال کرتے ہوئے کسی "خبر کو دبا دینے"، "خبر کو تبدیل کرنے"، یا "خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے" کے عوض غیر اعلانیہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ اسے عام طور پر "لفافہ صحافت" یا "سرپرستی" کہا جاتا ہے۔
پریس کلب کارڈ" کا غلط استعمال بعض اوقات صحافتی شناخت اور اسناد کو ایک "سہولت کار" یا "دلال" کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جہاں ان رابطوں کی بنیاد پر ذاتی یا دوسرے لوگوں کے کام کروائے جاتے ہیں اور اس کے عوض کمیشن یا فیس وصول کی جاتی ہے۔
عوامی تعلقات (PR) کا کام کچھ صحافی اداروں یا افراد کے لیے غیر رسمی پی آر کا کام بھی کرتے ہیں، مثبت امیج برقرار رکھنے یا منفی خبروں کو دبانے میں ان کی مدد کرتے ہیں، جس کے لیے انہیں معاوضہ دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے صحافیوں سے میرا ایک سوال یہ ہے کہ وہ 30-40 ہزار روپے کی تنخواہ پر ایک پُرتعیش طرز زندگی کیسے گزار لیتے ہیں؟
آزادی صحافت اور صحافتی احتساب کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ اگر کسی صحافی کے خلاف رشوت کا الزام ثابت ہوتا ہے تو سخت کارروائی کی جانی چاہیے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر قانونی، غیر انسانی، اور انتقامی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں اور پولیس کوڈ کے مطابق، کسی بھی مشتبہ شخص کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عمل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثال ہے
No comments:
Post a Comment